تحریر ۔۔ ڈاکٹر اقبال احمد خان
اعدادوشمار کے مطابق دل کی بیماریوں کے بعد سانس کی نالیوں ۔۔۔یعنی ناک سے لیکر پھیپھڑوں تک کی بیماریاں بہت عام ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر ہی تمام بیماریاں ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف ہیں۔ آئیے سب سے پہلے ان اعضاء پرروشنی ڈالیں جوان بیماریوں کی آماجگاہ ہوتی ہیں۔
ناک اور گلے کی ساخت اور بیماریاں
قدرت نے ان اعضاء کی ساخت کوان کی کارکردگی کے مطابق بنایا ہے جن میں مضبوطی اورلچک دونوں ہوتی ہیں ۔ ان کی شکل پائپ نما cartilagesکی طرح سے ہوتی ہے۔ یہ اعضاء زندگی کے لئے شہ رگ یا Life Line کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ہوا کی آکسیجن انسانی زندگی کےلئے نا گر یز ہے۔ جس طرح دل پوری زندگی دھڑکتا رہتا ہے اسی طرح سانس کی ڈور بھی پوری زندگی آپ کا ساتھ دیتی ہے۔ قدرت نے ناک اور گلے کی اندرونی جھلی کو خاص طور پر حساس اور مداحتی بنایا ہے تا کہ جراثیم اور مہلک اجزاءپھیپھڑوں میں جانے نہ پائیں لیکن یہی مثبت صلاحیتیں بعض اوقات زیادہ حساسیت این الر جی Hay Fever ،ناک کے غدودوں کا بڑھ جانا یعنی خراٹوں کی بیماری، گلے کے غدووں کا انفیکشن لینی Tonsilitis جیسی بیماریوں کا باعث بن جاتی ہیں۔ ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں ۔ وراثتی اثرات
بعض خاندانوں میں جلد،ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی جھلیاں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتی ہیں جومعصوم اور بے ضرر چیزوں مثلا پھول اور ان کے بیج،کپڑے ،عطر ، خاص قسم کے کھانے وغیر ہ الر جک والے حالات پیدا کر سکتے ہیں ۔ الرجی کی علامتوں میں چھینک کا بار بار آنا، آنکھوں، گلے اور ناک میں خارش ہونا اور ہلکی سی سانس کی تکلیف شامل ہیں۔ الرجی کی موثر دوائیں موجود ہیں لیکن ان کا فائدہ وقتی ہوتا ہے۔ آپ اپنا الرجی کا ٹیسٹ کرا کران چیزوں سے احتیاط بھی کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر الرجی ایک نہایت خطرناک موڑ لے کر دمہ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
ماحولیاتی اثرات
فضا میں آلودگی انتہا تک پہنچ گئی ہے۔ جدید صنعت و حرفت اور بڑھتے ہوئے رسل و رسائل نے خاص طور پر بڑے شہروں کے ماحول کوانتہائی آلودہ کر دیا ہے۔ کینسر Cancer ، دمہ اور Bronchitis جیسے امراض عام ہورہے ہیں۔ اگر ہم ذاتی عادات مثلا سگریٹ نوشی کو بھی اس میں شامل کرلیں تو مسئلہ اور بھی گھمبیر اور پریشان کن ہوجاتا ہے۔


Post A Comment:
0 comments: